حکومت کی جانب سے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش ، اپوزیشن کا شور شرابہ، ایوان مچھلی منڈی بن گیا

اسلام آباد (این ایل آئی)حکومت نے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا تواس دوران اپوزیشن جماعتوں نے مخالفت کرتے ہوئے شدید احتجاج کرتے ہوئے شورشرابہ اور ہنگامہ آرائی کی،بل پیش کیے جانے کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے قریب جمع ہوگئے، اسپیکر کی ڈائس کے سامنے اپوزیشن اور حکومتی اراکین میں ہاتھا پائی ہوگئی جس دوران ایوان مچھلی منڈی اور اکھاڑے کا منظرپیش کرنے لگا، پی پی پی کی شگفتہ جمانی نے پی ٹی آئی کی غزالہ سیفی کو تھپڑ دے مارا، اپوزیشن ارکان نے حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے بجٹ نا منظور نا منظور کے نعرے بھی لگائے ۔بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان میں رولز معطل کرنے کی قرارداد پیش کی۔ رولز معطل کرنے کی قرارداد منظور ہوئی جس کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین نے ضمنی مالیاتی بل 2021 (منی بجٹ) قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔اسپیکر نے رولنگ دی کہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط و طریقہ کار کے قاعدہ 122 کے تحت یہ بل قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے سپرد نہیں ہوگا۔اپوزیشن کی جانب سے اس موقع پر شدید احتجاج کیا گیا اور حکومت کیخلاف نعرے لگائے گئے۔تفصیلات کے مطابق اسد قیصر کی زیر صدرت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان میں رولز معطل کرنے کی قرارداد پیش کردی۔رولز معطل کرنے کی قرارداد منظور ہوئی جس کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین نے ضمنی مالیاتی بل 2021 (منی بجٹ) قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔اپوزیشن کی جانب سے بل کی ووٹنگ چیلنج کی گئی اور شدید احتجاج کیا گیا اور حکومت کیخلاف نعرے لگائے گئے جبکہ بجٹ نا منظور نا منظور کے نعرے بھی لگائے۔ دوسری طرف قومی اسمبلی اجلاس کے دوران الیکشن تیسری ترمیم کے آرڈیننس میں 120 دن کی توسیع کی قرارداد منظور کر لی گئی۔ قرارداد کی منظوری کے خلاف اپوزیشن نے احتجاج کیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)کی رکن شگفتہ جمانی نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کی غزالہ سیفی کو تھپڑ دے مار ا۔قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اسپیکر کی ڈائس کے سامنے اپوزیشن اور حکومتی اراکین میں ہاتھا پائی ہوگئی۔ اپوزیشن ارکان نے مہنگائی کیخلاف نعروں پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ اسی ہنگامہ آرائی کے دوران قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے حکومتی جماعت تحریک انصاف کی رکن غزالہ سیفی کو تھپڑ دے مارا۔سید نوید قمر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج ایجنڈے میں مدت ختم ہونے کے بعد آرڈیننس لائے جارہے ہیں، اس ایوان میں نئی نئی روایتیں ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں مدت سے پہلے آرڈیننس پیش ہوتے ہیں، اس حوالے سے رولز کے مطابق کارروائی چلائی جارہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی خواجہ آصف نے کہا کہ آپ نے اپوزیشن اور پاکستان کے عوام کی زبان بندی کرکے پاکستان کی معاشی خودمختاری بیچ رہے ہیں۔ سپیکر صاحب یہ دن اس پارلیمنٹ اور آپ کی کرسی کے لیے ہماری تاریخ میں اس دن کی حیثیت سے جائے گا جس پر قوم شرمسار ہوگی کہ پارلیمنٹ کس طرح کا کام کر رہی ہے۔ آپ وہ آرڈیننس بحال کر رہے ہیں جو ختم ہوچکے تھے جو آئین کے خلاف ہے، سٹیٹ بینک کا کنٹرول آئی ایم ایف کو دے رہے ہیں، آپ 1200 یا 100 ارب ارب ٹیکس واپس لے کر استثنی دے کر عوام کے اوپر مہنگائی کا پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا کے لیے پاکستان کے عوام پر رحم کریں، پاکستان کو نہ بیچیں، آپ نے تین سال یہاں لوٹ مار کی اجازت دی، دوائیوں، گندم اور چینی چوری کرنے کے اجازت نہ دیتے تو یہ نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور نیا بجٹ بنانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ پاکستان کی خود مختاری کو ختم نہ کریں، جو ملک معاشی طور پر غلام ہوجاتا ہے، وہ کالونی بن جاتا ہے وہ سرحدی قبضے سے زیادہ ظلم ہے، آپ ہمیں معاشی طور پر غلام کر رہے ہیں، کیا یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت آگئی ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں فنانس ترمیمی بل 2021 کی منظوری دے دی گئی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس میں فنانس ترمیمی بل منظوری کیلئے پیش کیا گیا۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے بل کا مسودہ کابینہ میں پیش کیا۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس ترمیمی بل کے نکات پر بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ منی بجٹ میں 71 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائے جا رہے ہیں، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس اور فون کالز پر مجوزہ ٹیکسز سے متعلق خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس اور فون کالز پر ٹیکسز سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔کابینہ اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ نے ٹیلی کام اور آئی ٹی پر ٹیکس کی مخالفت کی۔ ذرائع ایم کیو ایم کے مطابق انہوں نے درخواست کی کہ لیپ ٹاپ، ٹیلی کام اور آئی ٹی پر ٹیکس نہ لگایا جائے، ود ہولادنگ ٹیکس 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی مخالفت کی۔وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ ہاس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہا جا رہا ہے نواز شریف آج آ رہے ہیں یا کل، جب سعودی عرب گئے تب بھی یہی کہا جاتا رہا، ہر 3 ماہ بعد کہا جاتا ہے حکومت مشکل میں ہے، حکومت کوئی مشکل میں نہیں۔ شہباز شریف کی تقریر نوکری کی درخواست ہوتی ہے۔

You May Also Like